نئی دہلی، 21؍مئی(ایس او نیوز؍ایجنسی)حیدر آباد کی ویٹرنری ڈاکٹر کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے بعد اس کے قتل کے چار ملزموں کی پولیس انکاؤنٹر میں موت پر سپریم کورٹ کی جانچ کمیشن کی رپورٹ سامنے آ گئی ہے۔ کمیشن نے انکاؤنٹر کو فرضی قرار دیا ہے۔ سرپورکر جانچ کمیشن نے اس معاملے میں اپنی جانچ رپورٹ میں انکاؤنٹر میں شامل 10 پولیس اہلکاروں پر قتل کا کیس چلانے کی سفارش کی ہے۔ اس انکاؤنٹر کیلئے حیدر آباد پولیس کی ملک بھر میں واہ واہی ہوئی تھی۔
سرپورکر جانچ کمیشن نے رپورٹ میں صاف کہا ہے کہ مبینہ چاروں ملزموں کا فرضی انکاؤنٹر کیا گیا تھا۔ جسٹس وی ایس سرپورکر جانچ کمیشن نے کہا ہے کہ اس فرضی تصادم کے قصوروار پولیس اہلکاروں پر قتل کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے جانچ رپورٹ تلنگانہ ہائی کورٹ کو بھیجنے کی ہدایت دیتے ہوئے قصورواروں پر کارروائی کرنے کو کہا ہے۔حیدر آباد میں 27 نومبر 2019 کو 27 سال کی ایک ویٹرنری ڈاکٹر کا اغوا کرکے اس کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے بعد اس کا قتل کر دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر کی لاش شاد نگر علاقے میں ایک پل کے نیچے جلی ہوئی حالت میں ملی تھی۔ اس کے بعد حیدر آباد پولیس نے چار ملزموں محمد عارف، چنتاکنٹا چینا کیشولو، جولو شیوا اور جولو نوین کو اجتماعی عصمت دری اور قتل کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ لیکن کچھ ہی گھنٹوں بعد این ایچ-44 پر پولیس انکاؤنٹر میں ان چاروں ملزموں کی موت کی خبر نے سب کو حیران کر دیا۔ اسی شاہراہ کے پل کے نیچے 27 سالہ ویٹرنری ڈاکٹر کی جلی ہوئی لاش ملی تھی۔ اس کے بعد اس معاملے پر پورے ملک میں بحث شروع ہو گئی تھی۔
معاملے میں سپریم کورٹ نے انکاؤنٹر کی جانچ کرنے کیلئے جسٹس وی ایس سرپورکر کی صدارت میں جانچ کمیٹی کی تشکیل کی تھی۔جانچ کمیشن کی رپورٹ پر چیف جسٹس این وی رمن، جسٹس سوریہ کانت اور ہما کوہلی کی بنچ نے کہا کہ یہ انکاؤنٹر سے متعلق ہے، اس میں چھپانے جیسا کچھ نہیں ہے۔ کمیشن نے کسی کو قصوروار مانا ہے، ہم رپورٹ تلنگانہ ہائی کورٹ کو بھیج رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس پر کیا کارروائی ہونی چاہیے۔ کمیشن نے کچھ سفارش کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے کمیشن کو ہدایت دی کہ وہ دونوں فریقین کو رپورٹ کی کاپی مہیا کرائے۔